حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں حوزہ علمیہ کے مدارس اور تخصصی مراکز کے بین الاقوامی رابطہ کاروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے کہا کہ آج ملک اور خطے کے حالات دو سال پہلے کے مقابلے میں بالکل مختلف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے حکمرانوں کو اب یہ سمجھ آ گئی ہے کہ امریکہ پر بھروسہ کرنا ان کی بڑی غلطی تھی، اسی لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں ان کے رویے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر انقلاب اسلامی کے جسدِ خاکی کی تشییع کے بعد عراق کے حالات بھی بدل گئے ہیں اور مزاحمتی محاذ بھی ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ان تبدیلیوں نے حوزہ علمیہ کی بین الاقوامی سرگرمیوں کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
دنیا میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے
حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے کہا کہ پوری دنیا سمجھ چکی ہے کہ اب دنیا کسی ایک طاقت کے زیرِ اثر نہیں رہے گی۔ موجودہ عالمی حالات میں ایران اور اسلامی انقلاب ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران واحد ملک ہے جس نے امریکہ کا براہِ راست مقابلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق مغربی تہذیب کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونے کی صلاحیت رکھنے والی واحد بڑی تہذیبی طاقت اسلامی تہذیب ہے، جبکہ چین اور روس میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ ایک طاقت کی بالادستی ختم ہو اور باطل قوتیں کمزور ہوں۔
بین الاقوامی میدان میں حوزہ کی سرگرمی ضروری ہے
حوزہ علمیہ کے شعبۂ بین الاقوامی امور کے سربراہ نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں دینی اور علمی کام کرنا کوئی اختیاری یا ثانوی معاملہ نہیں بلکہ انتہائی اہم اور ضروری ہے۔
انہوں نے مختلف ممالک میں حوزہ علمیہ کے جہادی گروہوں کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے حوزہ علمیہ سے بھی متعدد گروہ دوسرے ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو اس میدان میں تہران کے حوزہ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ عرصے میں بین الاقوامی سطح پر کئی بڑے اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں عالم اسلام کے سیکڑوں علماء اور شخصیات نے شرکت کی۔ شہید رہبر انقلاب اسلامی کی الوداعی تقریب اور تشییع جنازہ میں بھی عالم اسلام کے علماء اور فضلا بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف صوبوں میں بھی بین الاقوامی امور کے شعبے قائم کیے جا رہے ہیں اور اس کام کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ہر طالب علم کے لیے دنیا کے حالات سے واقفیت ضروری ہے
حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے کہا کہ ’’حوزہ پیشرو و سرآمد‘‘ کے منشور میں عالمی سطح پر حوزہ کی ذمہ داریوں کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق شہید رہبر انقلاب اسلامی نے اس منشور میں 183 مرتبہ بین الاقوامی امور کا ذکر کیا اور حوزہ علمیہ کی دو اہم ذمہ داریوں، یعنی ’’استکبار کے خلاف جدوجہد کی صفِ اول‘‘ اور ’’تہذیب سازی‘‘ پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اربعین کے موقع پر علماء اور طلبہ کی بین الاقوامی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے کامیاب تجربات کو دیگر مواقع پر بھی استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر طالب علم کے لیے دنیا کے حالات اور عالمی مسائل سے واقفیت ضروری ہے، کیونکہ بعض مقامی لوگ بھی غیر ملکی میڈیا سے متاثر ہوتے ہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین کوہساری نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں کام کرنے کے لیے صرف غیر ملکی زبانیں جاننا ضروری نہیں ہے۔ ہر طالب علم اپنی صلاحیت کے مطابق اس میدان میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید مطہری کی کتابیں 38 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور وہ ملک کی عالمی سطح پر سب سے زیادہ اثر رکھنے والی حوزوی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر ہم انسانی فطرت اور بیرونِ ملک کے قارئین کی ضروریات کو سمجھ لیں تو ہماری ہر کتاب، مضمون اور تحریر دنیا بھر کے لوگوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ حوزہ علمیہ کے اثرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں اور گزشتہ دو تین برسوں کے واقعات کے بعد اس کا دائرہ مزید وسیع ہوا ہے۔ آج مصنوعی ذہانت نے بھی دوسرے ملکوں میں کام کو آسان بنا دیا ہے۔ جو طلبہ عالمی حالات اور بین الاقوامی امور سے واقف ہیں، وہ ملک کے اندر بھی زیادہ کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ